Urdu

اس وقت دنیا بھر میں خبروں کی سرخیوں کا غلبہ یہ ہے کہ مٹھی بھر دولت مند سیاحوں، جس میں ایک برطانوی ارب پتی بھی شامل ہے، کی بازیابی کے لیے ایک بہت بڑا تلاش اور بچاؤ (سرچ اینڈ ریسکیو) آپریشن جاری ہے، جو ٹائٹینک کشتی کے ملبے کو دیکھنے کے لیے آبدوز کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہو گئے۔ دوسری طرف، گزشتہ ہفتے بحیرہ روم میں 700 تارکین وطن کے ڈوبنے کی سامنے آنے والی تفصیلات پر بین الاقوامی میڈیا میں دانستہ طور پر مکمل خاموشی برقرار ہے، جو انسانی زندگی کو نظر انداز کرنے کا براہ راست نتیجہ ہے۔

گزشتہ رات (16 جون 2023ء) پونے ایک بجے، مجھے میکسیکو سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے پرانے دوست اور کامریڈ ایسٹیبن وولکوف اب ہم میں نہیں رہے۔ اگرچہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ خبر مکمل طور پر غیر متوقع تھی کیونکہ اس سال مارچ میں ایسٹبن کی عمر 97 سال ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس خبر نے مجھے نہ صرف ایک بہت ہی پیارے دوست بلکہ عظیم انقلابی لیون ٹراٹسکی کے آخری خونی رشتہ دار کی موت پر واقعی اداس کر دیا۔

عالمی مارکسی رجحان کے برازیلی سیکشن (ایسکویرڈا مارکسسٹا) نے جنوری میں شروع ہونے والی تحریک، جس نے فرانسیسی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا کے بارے میں ریوولوشن (ہمارے فرانسسی سیکشن) کے سرکردہ رکن جیروم کا انٹرویو کیا۔ میکرون کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی کوششوں سے شروع ہونے والی یہ جدوجہد جمود کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، لیکن فرانس کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پولرائزڈ اور مشتعل ہے۔

6 جون کو میکرون کی غلیظ پنشن اصلاحات کے خلاف منظم ہونے والے چودھویں ”ڈے آف ایکشن“ کا حکومت پر اتنا ہی اثر پڑے گا جتنا تیرھویں کا ہوا تھا۔ اگر میکرون مطلوب ”تسکین“ حاصل نہیں بھی کر سکا تو وہ خوش ضرور ہو گا کہ وقتی طور پر ہی صحیح لیکن وہ پنشن اصلاحات پر جنگ جیت چکا ہے۔ لیکن فرانسیسی بورژوازی کی نظر میں یہ ایک زخموں سے چور فتح ہے جس میں فاتح مفتوح کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔

بیس سال سے زیادہ عرصہ اقتدار پر قابض رہنے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک مرتبہ پھر اپنے اقتدار میں مزید پانچ سال توسیع حاصل کر لی ہے۔ یہ فتح بورژوا لبرلز کی قیادت میں ایک کثیر تعداد پارٹیوں کے حزب اختلاف کو شکست دے کر حاصل کی گئی جو اردوان کی بحران زدہ صدارت کو اتوار کے دن صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہے۔

امریکی قرضہ جات حدبندی پر کوئی بھی معاہدہ کرنے کی ڈیڈ لائن میں چند دن رہ گئے ہیں لیکن کانگریس بند گلی میں پھنسی ہوئی ہے۔ یکم جون یا اس کے آس پاس فیڈرل حکومت کے پاس اخراجات کے لئے پیسے ختم ہو جائیں گے اور ممکنہ طور پر ایک ایسا دیوالیہ رونما ہو سکتا ہے جس کی شدت پوری عالمی معیشت کے پرخچے اڑا سکتی ہے۔

ترکی کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا ہے۔ اے کے پی (جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی) سے تعلق رکھنے والا موجودہ صدر اردگان (جس نے 49.3 فیصد ووٹ حاصل کیے) پہلی بار دوسرا مرحلہ لڑنے پر مجبور ہوگا۔ اس کا حریف سی ایچ پی (ریپبلکن پیپلز پارٹی) کا کمال قلیج دار اوغلو ہوگا۔ یہ انتخابات اے کے پی کے لیے انتہائی دشوار سفر تھا، جس نے 20 سال تک ترکی پر حکمرانی کی ہے، مگر پھر بھی اردگان کو برطرف نہیں کیا جا سکا۔

اس ہفتے نکبہ کے 75 سال پورنے ہونے کے موقع پر دنیا بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے، جو کہ اسرائیل کی تخلیق کی صورت میں فلسطینی عوام کیلئے تباہی تھی اور ہے ۔ ہم کہتے ہیں: مشرق وسطیٰ کی سوشلسٹ فیڈریشن کے لیے لڑو!

ایک ہفتے کے اندرپورے ایران میں ملک گیر ہڑتال شروع ہو گئی ہے۔ 21 اپریل سے تیل-گیس کے شعبے کی 18 کام کی جگہوں میں شروع ہونے والی ہڑتال اب کان کنی، سٹیل اور تیل-گیس کے شعبوں میں 100 سے زیادہ کام کی جگہوں پر پھیل چکی ہے۔ ہڑتال کا آغاز تیل سے مالا مال صوبہ خوزستان سے ہوا لیکن اب یہ تیزی سے بوشہر، فارس، کرمان، اصفہان اور یزد صوبے تک پھیل چکی ہے۔

گمنام شخصیات (اب ایک 21 سالہ ائر نیشنل گارڈ جیک ٹیشیرا کو گرفتار کر لیا گیا ہے) کی جانب سے انتہائی خفیہ راز کے 100 صفحات انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہونے کے بعد امریکی ریاستی حکام شدید پریشان ہیں۔ انہیں پہلی مرتبہ کچھ گیمرز نے ڈسکارڈ ایپ پر شیئر کیا تھا۔ ان دستاویزات میں یوکرین میں امریکی مداخلت کی وسعت، یوکرین کو درپیش سنجیدہ مسائل، نیتن یاہو کے خلاف عوامی احتجاج ابھارنے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کردار اور دیگر کئی معاملات کی تفصیل ہے۔

اپریل 2023ء کے پہلے ہفتے میں لیبر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے جیرمی کوربن کو اگلے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دینے کے خلاف ووٹ دیا۔ جس کے بعد لیبر پارٹی کے بائیں بازو سے ایک نئی محنت کش پارٹی کے حق میں کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لیکن اصل سوال ایک انقلابی قیادت کا فقدان ہے۔

6 اپریل 2023ء کو، میکرون حکومت کی پنشن اصلاحات کے خلاف گیارہویں ملک گیر ڈے آف ایکشن سے ایک دن قبل، فرانسیسی وزیر اعظم ایلزبتھ بورن فرانسیسی ٹریڈ یونینوں کے اتحاد، ’انٹرسنڈیکل‘ کے رہنماؤں سے ملاقات کرے گی۔ اس نے کہا کہ ”ہر کوئی ان موضوعات پر بات کر سکے گا جو وہ چاہتے ہیں۔“ بڑی مہربانی اس کی۔ یونین رہنما اصلاحات کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کر سکیں گے، اور وزیر اعظم اس بات کا اظہار کر سکے گا کہ انسے کوئی پرواہ نہیں۔

جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (CGT) کی 53ویں کانگریس مارچ کے اختتام پر منعقد کی گئی اور یونین کنفیڈریشن کی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ 942 مندوبین بائیں اور دائیں بازو میں منقسم چار دن شدید بحث مباحثہ کرتے رہے۔ اگرچہ دایاں بازو قیادت پر کنٹرول قائم رکھنے اور اپنی منظور نظر سوفی بینیت کو جنرل سیکرٹری بنوانے میں کامیاب رہا لیکن بائیں بازو نے تاریخی قوت اور جنگجوئی کا اظہار کیا۔

آکسفیم کی ایک نئی رپورٹ بعنوان ’امیر ترین لوگوں کی بقا‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی غربت اور نا برابری میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ امیر اور غریب کے بیچ خلیج اتنی گہری ہو گئی ہے کہ آکسفیم کے سی ای او نے اپنی تقریر میں خبردار کیا کہ ”پورا سرمایہ دارانہ نظام خطرے سے دوچار ہے“۔