Urdu

دو دہائیوں پہلے امریکی قیادت میں عراق پر فوج کشی کا آغاز ہوا۔ اس وقت سے پورا ملک جنگ، فرقہ واریت اور انتہاء پسندی کی لپیٹ میں ہے۔ سامراجیت کی ہولناکی اور بربریت کے خاتمے کے لئے ہمیں انقلابی جدوجہد کے ذریعے سرمایہ داری کا خاتمہ کرنا ہو گا۔

اسرائیلی حکمران طبقے کے اندر ایک شدید آپسی لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ بنیامین ’بی بی‘ نیتن یاہو کو اپنے عہدے پر واپس آئے صرف دو مہینے ہی ہوئے ہیں اور وہ اسرائیلی پارلیمنٹ سے جوڈیشل ریفارم کا قانون جلد از جلد پاس کروانا چاہتا ہے خواہ اس کے لیے سب کچھ بلڈوز کرنا پڑے۔ ایسا کرنے سے اس نے بڑے سرمایہ داروں کی اکثریت کو مشتعل کیا جنہوں نے مظاہروں کا غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔ جب حکمران طبقہ اس طرح کھلے تصادم میں اترتا ہے تو یہ ان کے لیے ’عام‘ حالات میں اپنی حکمرانی کی اصل سازشوں کو چھپانے والے پہلووں کو بے نقاب کرنے کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے۔ موجودہ تنازعہ بھی اس سے الگ نہیں ہے۔

23 مارچ 2023ء کو فرانس میں منعقد ہونے دیو ہیکل احتجاجوں نے میکرون کے خلاف جدوجہد کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ پچھلے دو مہینوں سے (پنشنوں پر نئے حملوں کے بعد) تحریک مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومتی نمائندوں کو امید تھی کہ جمعرات کے احتجاجوں کے بعد تحریک مدہم ہونی شروع ہو جائے گی اور ہفتہ وار چھٹی تک حالات معمول کے مطابق ہو جائیں گے۔ ان کی امیدوں پر پانی پھر چکا ہے۔ 23 مارچ کو 35 لاکھ محنت کش اور نوجوان فرانس کی بیشتر سڑکوں پر اُمڈ آئے اور ہڑتالیں اور احتجاج اب مزید جنگجوانہ روش اختیار کر رہے ہیں۔

11، 12 مارچ 2023ء کو عالمی مارکسی رجحان (IMT) کے پاکستانی سیکشن، لال سلام نے ایوانِ اقبال سینٹرلاہورمیں اپنی چھٹی کانگریس کا انعقاد کیا۔ تباہ حال انفراسٹرکچر اور وحشیانہ کرپشن کی وجہ سے ایک ملک گیر اجلاس کے انعقاد کے راستے میں بے تحاشا انتظامی مسائل کے باوجود، یہ تاریخی کانگریس ایک شاندار کامیابی تھی۔

یکم فروری کو برطانیہ کے اندر پوری دہائی کی سب سے بڑی ہڑتال ہوئی، جس میں 5 لاکھ محنت کشوں نے حصہ لیا۔ عالمی مارکسی رجحان (آئی ایم ٹی) کے برطانوی سیکشن سوشلسٹ اپیل نے ملک بھر میں منعقد ہونے والے ہڑتالی احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو کر کئی احتجاجی مظاہرین سے محنت کشوں سے مالکان کے حملوں اور ٹوری حکومت کے یونین مخالف بل کے خلاف ان کی لڑائی کے حوالے سے بات چیت کی۔

نئے قمری سال کے قریب آتے ہی گزشتہ چند ہفتوں سے چین میں محنت کش طبقہ معاشی ہڑتالوں اور مظاہروں کی لہر میں مصروف ہے۔ اگرچہ یہ مظاہرے پیمانے اور لڑاکا پن کے لحاظ سے مختلف ہیں لیکن اجتماعی طور پر یہ گہرے ہوتے ہوئے سماجی و اقتصادی بحران اور طبقاتی جدوجہد کی دلیرانہ بنیادوں کا واضح اشارہ ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے کا سبب بن رہے ہیں۔

برطانیہ میں عدم استحکام کی سردی شروع ہو گئی ہے۔ نرس، ایمبولینس عملہ اور سرحدی سیکورٹی، سب ہڑتال میں شریک ہو رہے ہیں جبکہ ملک دہائیوں کی سب سے بڑی ہڑتالوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جدوجہد میں شدت آتی جا رہی ہے، جبکہ ٹوری حکومت جبر کی دھمکیاں دے رہی ہے۔

پنشن کے اوپر صدر ایمانوئل میکرون کے حالیہ حملوں کے خلاف 19 جنوری کو فرانس کے اندر 200 سے زائد ریلیوں میں 10 لاکھ سے زائد افراد نے سڑکوں پر نکل کر ملک گیر ہڑتال کی۔ ریل، پیرس ٹرانسپورٹ سسٹم، تیل ریفائنریوں، اور میڈیا کے محنت کشوں سمیت اساتذہ، سرکاری ملازمین، ٹرک ڈرائیوروں اور بینکوں کے عملے نے مل کر میکرون کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کیا۔ محنت کشوں میں ٹکر لینے کی صلاحیت موجود ہے، مگر کیا مزدور قائدین آگے بڑھنے کی ہمت کریں گے؟

7 دسمبر 2022ء کو عجلت میں اپنی ’زیرو کووِڈ‘ پالیسی کو ترک کرتے ہوئے چینی ریاست نے اپنے ’دس نئے اقدامات‘ جاری کیے، جسے وہ ”روک تھام کے درست اقدامات“ کہتی ہے۔ درحقیقت، یہ کرونا وبا پر قابو پانے کے لیے کیے گئے سخت گیر اقدامات کو مکمل طور پر ترک کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ ”چینی کمیونسٹ پارٹی“ کی حکومت کے مطابق، ’دس اقدامات‘ کا مقصد کرونا وائرس میں تبدیلیوں کوصورت حال کے مطابق نشانہ بنانے میں ”سائنسی درستگی“ کو بہتر بنانا ہے۔

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ سے موصول ہونے والی تصاویر نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ انسانوں نے اس سے پہلے کائنات کی اتنی شفاف اور دور کی تصاویر کبھی حاصل نہیں کی تھیں۔ توقعات کے مطابق، اٹلی میں رومن کیتھولک چرچ کے فلکیات کے شعبے سے وابستہ ایک ماہرِ فلکیات نے ان تصاویر کے بارے میں کہا کہ ”ہمارے سامنے خدا کی تخلیق عیاں ہو رہی ہے، اور ان میں ہم اس کی انتہائی حیرت انگیز طاقت اور خوبصورتی کے لیے اس کا پیار، دونوں دیکھ سکتے ہیں۔“

دسمبر کے شروع میں، چین کے اندر حکومت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے سخت کرونا لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاجوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا، جن میں سے کئی نے جلد ہی سیاسی نوعیت اختیار کر کے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کی پوری سرمایہ دارانہ حکومت کو للکارنا شروع کیا۔ اگرچہ انفرادی طور پر یہ احتجاج چھوٹے تھے، ریاست واضح طور پر اس سے خوفزدہ تھی کہ کہیں یہ وسیع تر پرتوں کو متحرک نہ کر دیں۔ اب، جبکہ ریاست کریک ڈاؤن کر رہی ہے، وہ ’زیرو کووڈ‘ پالیسی (کرونا متاثرین کی تعداد صفر پر لانے کے لیے کیے جانے والے سخت ترین اقدامات) میں نرمی لانے پر بھی مجبور ہے۔ مگر ایسا کرتے ہوئے، انہیں چینی سرمایہ داری میں مزید عدم استحکام کا سامنا ہے۔

ترکی کے روزنامہ برگن نے ’مارکسزم کے دفاع میں‘ ویب سائٹ کے ادارتی بورڈ کے ممبر جارج مارٹن کا پیرو میں ہونے والی حالیہ دھماکہ خیز پیش رفت کے بارے میں انٹرویو کیا۔ کانگریس میں ہونے والے کُو کے نتیجے میں بائیں بازو کے صدر پیدرو کاستیلو کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس اقدام نے ایک عوامی احتجاجی تحریک کو جنم دیا ہے، جس کی قیادت مزدور اور غریب کسان کر رہے ہیں۔

اِس مہینے سوویت یونین کے انہدام کو 30 سال ہو گئے ہیں۔ دنیا کی سب سے طاقتور مسخ شدہ مزدور ریاست ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہو رہی تھی جبکہ نام نہاد کمیونسٹ ریاستی اثاثوں کی لوٹ مار کر رہے تھے۔ اس ساری صورتحال پر مغربی سامراجی فتح کے شادیانے بجا رہے تھے۔ سرمایہ داری اپنے خوفناک پنجے پھر سے گاڑ رہی تھی اور سوویت یونین کے مزدوروں کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑا۔